Tuesday, 11 August 2015

 

امریکا میں 16 سالہ پاکستانی لڑکا ویڈیو گیم چیمپئن شپ جیت کر کروڑ پتی بن گیا 


 شمائل نے مقابلہ جیت کر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم اپنے نام کرلی۔ فوٹو: رائٹرز

سیاٹل: امریکا میں ہونے والے ’’ڈوٹا ٹو‘‘ نامی بین الاقوامی گیمنگ ٹورنامنٹ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ شمائل حسن نے غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے لاکھوں ڈالر کا بین الاقوامی مقابلہ جیت لیا۔

گزشتہ ہفتے امریکا میں منعقدہ مقابلے میں شامل ہونے والی ٹیم کا نام ’’ایول جینیئس‘‘ تھا جن میں اس کے علاوہ چار گیمرز اور بھی شامل تھے، یہ مقابلے 6 روز تک جاری رہے جن میں بلاؤں سے لے کر بونوں تک کے کردار ایک دوسرے کو گھونسے لگاتے، آگ کی گیندیں اور بجلی کے کڑاکے برساتے نظر آتے رہے، اس شاندار مقابلے کو دیکھنے کے لیے 17 ہزار افراد موجود تھے اوراس بار جیتنے والوں کو 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم دی گئی ہے۔

سیاٹل میں ہونے والے اس اعصاب شکن مقابلے میں فلور پر موجود مداحوں نے اپنے پسندیدہ گیم کرداروں کا روپ دھارکر شمائل کی ٹیم کا حوصلہ بڑھایا اور آخرکار ان کی ٹیم چیمپئین قرار پائی اور انہوں نے اپنے دشمن کو اس آن لائن گیم میں شکست دیدی جس کے بعد وہ لاکھوں ڈالر کے حقدار ہوگئے جن کی پاکستانی روپوں میں قیمت 10 کروڑ سے زائد ہے۔

ڈوٹاٹو کے مطابق شمائل حسن کی کہانی کئی لحاظ سے حیرت انگیز ہے کیونکہ وہ الیکٹرانک گیمز کا مقابلہ جیت کر لکھ پتی (ڈالروں میں) بننے والے کم عمر ترین گیمر ہیں۔ فتح یاب ہونے کےبعد شمائل حسن کا کہنا تھا کہ جیتنا ان کے لیے سب کچھ تھا کیونکہ ان گیمز کے لیے انہوں نے اپنی سائیکل تک فروخت کردی تھی۔

ڈوٹا ٹو ’’defense of the Ancients ‘‘ کا مخفف ہے جو ایک مشہور آن لائن گیم ہے جسے ایک وقت میں کئی لوگ کھیل سکتے ہیں، ہرماہ لاکھوں لوگ اس گیم میں حصہ لیتے ہیں جس میں 2 ٹیمیں ایک دوسرے کے مراکز کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔ اس بار کے مقابلے میں امریکا، چین، کوریا، روس اور دیگر ممالک کی ٹیمیں شامل تھیں جب کہ شمائل امریکی ٹیم کا حصہ تھے جسے فتح کے بعد 66 لاکھ ڈالر کا اول انعام ملا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں یہ مقابلے گزشتہ 5 سال سے منعقد کیے جارہے ہیں اور پہلے سال اس کی مجموعی رقم ایک ملین
ڈالر رکھی گئی تھی۔

Thursday, 6 August 2015

یک ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ، ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮔﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﻮﭦ ﮐﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮔﺌﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻥ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻨﮯ ﺗﻮ ﻋﻘﻞ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻭﺍﻗﻌﮧ ۔

ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﻨﺎﺯﮦ
ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺍ، ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﻣﯿﺪﺍﻥ
ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﻮﮒ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﮯ کے ﻟﯿﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﻤﻨﺪﺭ
ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺣﺪ ﻧﮕﺎﮦ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ
ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﻭﮐﯿﻞ ﮨﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺠﻤﻌﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻭﺻﯿﺖ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﺠﻤﻌﮯ ﭘﺮ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﭼﮭﺎﮔﯿﺎ۔ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ قطب ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧنے ﯾﮧ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﭘﮍﮬﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﺎﺭ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ۔

1::ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮞﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺍﻭﻟﯽٰ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻀﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ۔

2:: ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﮩﺠﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻀﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ۔

3::ﺍﺱ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﭘﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ
ﮈﺍﻟﯽ ﮨﻮ۔

4::ﺍﺗﻨﺎ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﺳﻨﺘﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯼ
ﮨﻮﮞ۔

ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﺎﺭ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﺋﮯ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﻤﻌﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﭼﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺠﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﺳﺎﻧﭗ
ﺳﻮﻧﮕﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ۔ ﮐﺎﻓﯽ
ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ، ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ
ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﮯ۔
ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺳﮯ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ! ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺍﺯ ﻓﺎﺵ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﺮﮮ ﻣﺠﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺣﺎﺿﺮ ﻭ ﻧﺎﻇﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻗﺴﻢ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﯾﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺘﻤﺶ ﺗﮭﮯ.

 فتح سے زیادہ اہم ٹیم کا مزاج ہے جو آخری ٹی ٹوینٹی میں اس طرح نظر آیا کہ آفریدی تو آؤٹ ہوگیا لیکن آفریدی ازم آخر تک کریز پر رہا۔

پاکستان کی سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوینٹی سیریز میں ناقابل یقین فتح نے کئی شائقین کرکٹ کو انگشت بدنداں کردیا ہے۔ ہمارے کئی مقامی کرکٹ ماہرین کے نزدیک فتح کا سہرا نئے خون کو جاتا ہے کہ کس طرح کپتان شاہد آفریدی کے پویلین لوٹ جانے کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں انور علی اور عماد وسیم نے آخری وقت تک نہ صرف اپنا اعتماد قائم رکھا بلکہ مضبوط اعصاب دکھا کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کروایا۔ تاہم میرے نزدیک اس فتح کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں بلکہ شاہد آفریدی کو جاتا ہے، بلکہ اگر ایسا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جیت کی اصل وجہ آفریدی ازم ہے۔
Please Like this Page : https://www.facebook.com/B.DGroupOfNewsPaper #BDGroupOfNewsPaper
http://bdgroupofnewspaper.blogspot.com/

ثانیہ مرزا راجیو گاندھی کھیل رتنا ایوارڈ کے لئے نامزد

بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ثانیہ مرزا کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ فوٹو:فائل
نئی دہلی: بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستانی مایہ ناز کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا کو راجیو گاندھی کھیل رتنا ایوارڈ کے لئے نامزد کردیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ومبلڈن اوپن ٹینس میں شاندار پرفارمنس پر بھارتی وزارت کھیل نے راجیو گاندھی کھیل رتنا ایوارڈ کے لئے نام سلیکشن کمیٹی کو بھیجا جس نے ثانیہ مرزا کا نام راجیو گاندھی کھیل رتنا ایوارڈ کے لئے نامزد کردیا جب کہ اس سے قبل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن نے ثانیہ مرزا کا نام اس ایوارڈ کے حصول کے لئے نامزد کیا تھا تاہم ایسوسی ایشن کی جانب سے ثانیہ کا نام جمع کرانے میں تاخیر کردی گئی تھی جس پر وزارت کھیل نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ثانیہ مرزا کا نام راجیو گاندھی ایوارڈ کے لئے سلیکشن کمیٹی کو ارسال کیا۔
دوسری جانب راجیو گاندھی کھیل رتنا ایوارڈ کے لئے بھارتی ہاکی ٹیم کے کپتان سردار سنگھ، اسکوائش کی کھلاڑی دپیکا پالیکل سمیت دیگر شامل ہیں لیکن امید ظاہر کی جارہی ہے کہ ایوارڈ ثانیہ مرزا کے نام ہوگا جب کہ انہیں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پرایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
واضح رہے کہ ثانیہ مرزا نے گزشتہ ماہ ومبلڈن اوپن ٹینس میں ویمنزڈبل ایونٹ جیتا تھا۔
http://bdgroupofnewspaper.blogspot.
com/
ہمارے فیصلہ سازوں کو پاک سرزمین سے ذرا سی بھی دل چسپی ہوتی تو ہم بارش کے پانی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے۔ فوٹو : فائل
ارباب اختیار کی بے حسی، مجرمانہ غفلت اور حکمت سے عاری پالیسیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں برسنے والی باران رحمت زحمت بن چکی ہے۔ سیل بلا کی بپھری ہوئی موجیں چار سو دندنا رہی ہیں، بستیاں غرقاب اور پانی میں گھرے ہوئے بے یار و مدد گار لوگ دہائی دے رہے ہیں۔
ہمارے فیصلہ سازوں کو تاج و تخت کے علاوہ اس پاک سرزمین سے ذرا سی بھی دل چسپی ہوتی تو وہ یہ ضرور سوچتے اور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرتے تو اس نعمت عظمی بارش کے پانی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا۔ یہ باران رحمت برس ہا برس تک ہمارے کھیتوں کو سیراب کرسکتی ہے، لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بناسکتی ہے اس سے ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ارباب اختیار کی بے تدبیری، قومی یک جہتی کے فقدان، سیاسی نفرتوں اور ذاتی مفادات اور تعصبات کے سبب ہم نئے ڈیم بنانے کو تو تیار ہی نہیں بلکہ پرانے ڈیموں کو بھی تباہ و برباد اور ناکارہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ ڈیموں سے نکلنے والی نہروں کی صفائی سے غافل ہیں اور ان میں جمع ہوجانے والی مٹی نہ نکال کر پانی کی گنجائش کو مزید کم سے کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس بے حسی پر جتنا رویا جائے وہ کم ہے۔
یہ بات تو ایک عام شہری بھی جانتا اور ہم سب پر عیاں ہے کہ سکھر بیراج کے بغیر سندھ میں زراعت کوئی بھی معنی نہیں رکھتی ہے۔ کیوں کہ بیراج سے نکلنے والی ساتوں نہریں دور دراز علاقوں تک پانی پہنچا کر زمین کو سرسبز و شاداب بناتی ہیں۔ زراعت کے حوالے سے سکھر بیراج کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سکھر بیراج جس توجہ کا مستحق ہے اس سے محروم رہا ہے۔
Please Like this Page : https://www.facebook.com/B.DGroupOfNewsPaper #BDGroupOfNewsPaper