Thursday, 6 August 2015

ہمارے فیصلہ سازوں کو پاک سرزمین سے ذرا سی بھی دل چسپی ہوتی تو ہم بارش کے پانی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے۔ فوٹو : فائل
ارباب اختیار کی بے حسی، مجرمانہ غفلت اور حکمت سے عاری پالیسیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں برسنے والی باران رحمت زحمت بن چکی ہے۔ سیل بلا کی بپھری ہوئی موجیں چار سو دندنا رہی ہیں، بستیاں غرقاب اور پانی میں گھرے ہوئے بے یار و مدد گار لوگ دہائی دے رہے ہیں۔
ہمارے فیصلہ سازوں کو تاج و تخت کے علاوہ اس پاک سرزمین سے ذرا سی بھی دل چسپی ہوتی تو وہ یہ ضرور سوچتے اور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرتے تو اس نعمت عظمی بارش کے پانی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا۔ یہ باران رحمت برس ہا برس تک ہمارے کھیتوں کو سیراب کرسکتی ہے، لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بناسکتی ہے اس سے ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ارباب اختیار کی بے تدبیری، قومی یک جہتی کے فقدان، سیاسی نفرتوں اور ذاتی مفادات اور تعصبات کے سبب ہم نئے ڈیم بنانے کو تو تیار ہی نہیں بلکہ پرانے ڈیموں کو بھی تباہ و برباد اور ناکارہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ ڈیموں سے نکلنے والی نہروں کی صفائی سے غافل ہیں اور ان میں جمع ہوجانے والی مٹی نہ نکال کر پانی کی گنجائش کو مزید کم سے کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس بے حسی پر جتنا رویا جائے وہ کم ہے۔
یہ بات تو ایک عام شہری بھی جانتا اور ہم سب پر عیاں ہے کہ سکھر بیراج کے بغیر سندھ میں زراعت کوئی بھی معنی نہیں رکھتی ہے۔ کیوں کہ بیراج سے نکلنے والی ساتوں نہریں دور دراز علاقوں تک پانی پہنچا کر زمین کو سرسبز و شاداب بناتی ہیں۔ زراعت کے حوالے سے سکھر بیراج کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سکھر بیراج جس توجہ کا مستحق ہے اس سے محروم رہا ہے۔
Please Like this Page : https://www.facebook.com/B.DGroupOfNewsPaper #BDGroupOfNewsPaper 

No comments:

Post a Comment